بھارت کی سلامتی کونسل کی ممبر شپ کے لیے کوششیں ۔۔۔ تحریر: سعد فاروق

امریکہ برطانیہ اور فرانس کی جانب سے سلامتی کونسل میں پیش کی گئی کالعدم تنظیم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی قرار داد چین نے تکنیکی بنیادوں پر مسترد کر دی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت گزشتہ چار دہائیوں سے ریاستی دہشت گردی مسلط کئے ہوئے ہے،کشمیری نوجوان غلامی پر موت کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ گزشتہ ماہ پلوامہ میں مقامی نوجوان عادل ڈار کا بھارتی سکیورٹی اداروں سے بھارتی ساختہ آر ڈی ایکس خرید کر خودکش حملہ کرنااس کا ثبوت ہے۔ جب بھی بھارت میں کوئی حادثہ پیش آ تا ہے انتہا پسند ہندو بھارت کے طول و عرض میں بسے معصوم کشمیریوں پر تشدد اور ان کی املاک کوجلانا شروع کر دیتے ہیں ایسا ہی پلوامہ واقعہ کے بعد ہوا۔ اس کارروائی کی ذمہ داری مقامی تنظیم نے قبول کی ہے۔ چین نے بھی سلامتی کونسل میں بھارتی ایما پر پیش کی گئی قرار

داد پر اسی قسم کے تکنیکی اعتراض لگائے تھے جن کو بھارت دور نہ کر سکا۔ پاکستان میں جو لوگ مسلسل یہ پروپیگنڈا کر رہے تھے کہ چین سلامتی کونسل میں اس بار پاکستان کا ساتھ نہیں دے گا۔ ان کے فلسفے کو ناکامی ہوئی ہے۔ اب تو چین نے بھی بھارت کو صائب مشورہ دیا ہے کہ اگر مسئلہ کشمیر نہ ہوا تو عادل ڈار پیدا ہوتے اور مسعود اظہر ایسے مسائل سامنے آتے رہیں گے۔ اگرامریکہ اور طالبان کے مذاکرات ہو سکتے ہیں تو بھارت اور پاکستان کے درمیان کیوں نہیں۔ بہتر ہو گاعالمی برادری بھارت نوازی کے بجائے مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لئے کوششیں تیز کرے تاکہ خطہ میں پائیدا امن ممکن ہو سکے۔ سلامتی کونسل میں مسلسل ناکامی کے بعد بھارت چین کی ویٹو پاور کے بے بس نظر آ رہا ہے۔ اس ناکامی کو کامیابی میں بدلنے کے لیے بھارت نے امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک کے ساتھ رابطے کرکے سلامتی کونسل کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے کوشش شروع کر دی ہیں۔ سلامتی کونسل اقوام متحدہ کے زیر انتظام چلنے والا دوسرا بڑا ادارہ ہے۔ اس ادارے کے ذمے دنیا کا امن برقرار رکھنا ہے۔ اس کے رکن ممالک کی تعداد 15 ہوتی ہے جن میں سے 5 مستقل اراکین ہیں۔ ان مستقل اراکین کو ویٹو کا حق حاصل ہے۔ مستقل اراکین میں امریکا، فرانس، انگلینڈ اور روس، چین شامل ہیں۔ یہ پانچ ممالک نیوکلئیر طاقت رکھتے ہیں۔ جبکہ دیگر غیر مستقل ارکان میں براعظم افریقہ سے 3 ممبر، براعظم لاطینی امریکا سے 2 ممبر، مغربی یورپ سے 2 ممبر، مشرقی یورپ سے 1 ممبر، ایشیا سے 2 ممبر لیے جاتے ہیں۔سن 1945 میں سکیورٹی کونسل کو معرض وجود میں لایا گیا اور دوسری جنگ عظیم کے فاتحین نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی اوڑھ میں اپنے لیے سیکیورٹی کونسل میں مستقل سیٹ اور ویٹو کی طاقت محفوظ کروالی جس نے

پوری دنیا کے سیاسی جغرافیہ کو یکسر تبدیل کر دیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اقوام متحدہ کا کوئی بھی رکن ملک اس سیکیورٹی کونسل کا مستقل رکن بن سکتا ہے؟ سوال کا جواب تو ہاں میں ہی آئے گا مگر اس کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر میں ترمیم کرنا لازمی ہے اور اس ترمیم کے لیے اقدامات کافی پچیدہ مراحل پر مشتمل ہیں۔ اقوام متحدہ کیچارٹر میں کسی ترمیم کے حوالے سے اسی چارٹر کے آرٹیکل نمبر 108 کو فالو کیا جاتا ہے جس کے مطابق کسی معاملے سے متعلق یواین چارٹر میں ترمیم صرف اسی صورت میں ہوسکتی ہے جب اس ترمیم کو یو این پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریتی ووٹ حاصل ہو اور سیکیورٹی کونسل کے تمام مستقل ارکان کے حمایتی ووٹ حاصل ہوں۔اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی مستقل سیٹوں کی تعداد بڑھانے کے حوالے سے کئی ممالک سرگرم ہیں۔ اس حوالے سے فہرست میں سب سے پہلا نام

جی 4 ممالک کا آتا ہے جس کے چاروں ممبران ایک دوسرے کو مستقل رکن کے لیے بطور امیدوار نہ صرف تصور کرتے ہیں بلکہ اس اقدام کے لیے ایک دوسرے کی ہر ممکن سپورٹ کرتے ہیں۔ اس گروپ کا نصب العین سیکیورٹی کونسل کی ایک مستقل سیٹ اپنے نام کرنا ہے۔ ان ممالک میں برازیل، جرمنی، بھارت اور جاپان شامل ہیں۔جی 4 گروپ کی مخالفت میں اقوام متحدہ میں یو ایف سی سامنے آیا۔ یوایف سی جسے کافی کلب بھی کہا جاتا ہے اٹلی کی سربراہی میں 1995 میں تشکیل دیا گیا جس کا نصب العین جی 4 کے مقاصد کو زائل کرنا ہے جس کی وجوہات میں علاقائی، سیاسی، جغرافیائی تلخیاں شامل ہیں۔ یو ایف سی کی تشکیل کے وقت اس کے ممبران کی تعداد 4 تھی جن میں پاکستان، مصر، میکسیکو اور اٹلی شامل تھے اور کچھ ہی عرصے بعد سپین، ارجنٹینا، ترکی، کینیڈا اور جنوبی کوریا بھی اس گروپ میں شامل ہوگئے۔

جی 4 ممالک کی جانب سے پیش کی جانی والی سیکیورٹی کونسل کے اراکین کے حوالے سے تجاویز کے جواب میں یو ایف سی نے بھی کئی تجاویز پیش کیں۔کچھ روز قبل اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں چین نے ویٹو پاور کا استعمال کرتے ہوئے بھارت کی جانب سے مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی کوشش ناکام بنا دی جس کے بعد بھارت میں سوگ و ماتم کی فضا پھیل گئی۔ اس ناکامی کے بعد بھارت میں ایک بحث نے جنم لیا جس کی سرخیل بھارتی سرکار ہے۔ اس بحث میں سابق بھارتی وزیراعظم جواہر نہرو کو اس بات کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے کہ بھارت نے چین کو سیکیورٹی کونسل کی مستقل رکنیت بخشی۔ بھارت کے ایک سیاسی طبقے کے مطابق پنڈت جواہر نہرو کو امریکا کی جانب سے غیر رسمی طور پر چین کو ہٹانے اور اس کی جگہ بھارت کو مستقل رکن بنانے کی آفر کی گئی تھی اور جواہر نہرو

نے چین و سویت یونین سے خرابی تعلقات کے خدشہ کے پیش نظر اس آفر کو رد کردیا تھا۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف امریکا کی ایماء اور کوشش پر بھارت کے لیے سیکیورٹی کونسل کا مستقل رکن بن پانا ممکن تھا؟ بھارت کے نامور سا سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ وہ دور تھا جب سویت یونین اور امریکا کے درمیان کولڈ وار عروج پر تھی اور بھارت نان الائنگ مومنٹ کا حصہ بن چکا تھا، امریکا کی ایماء پر چین کے خلاف اس قدر سنگین قدم اٹھانا خود بھارت کے لیے چین اور سویت یونین کے قہر کا باعث بن سکتا تھا۔بھارتی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کی مستقل رکنیت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مستقل اراکین کا حمایتی ووٹ حاصل کرنا ہے جہاں یوکے، فرانس، امریکا تو شائد بھارت کی سپورٹ کا ارادہ کرلے مگر چین کی موجودگی بھارت کے اس خواب کو چکنا چور کرنے کے لیے کافی ہے۔ حالات کا تقاضا

ہے کہ بھارت کو کسی صورت بھی سلامتی کونسل کا مستقل ممبر منتخب نہیں کیاجائے۔ بھارتی ہٹ دھرمی اور پروپیگنڈے سے دنیا بخوبی واقف ہے۔ مستقل ممبر بننے کے بعد بھارت پاکستان کے خلاف سفارتی محاذ اور تیزکر سکے گااور پاکستان کے شہریوں اور اداروں کے خلاف جھوٹی قرار دادیں پیش کرکے پابندیاں لگوانے کی کوشش کرئے گا۔ سب سے اہم بات کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو مزید بڑھاکر کشمیریوں کی نسل ہی ختم کرنے کی کوشش کرئے گا۔