خدارا !حج میں تاخیرنہ کریں ۔۔۔ تحریر: محمد صہیب فاروق

وزارت مذہبی امونے ملک بھرمیں سرکاری سکیم کے تحت حج درخواستوں کی وصولی کی آخری تاریخ میں 9مارچ تک توسیع کردی ہے اس سال حج بہت مہنگا کردیا گیا جس کی وجہ سے بہت سارے لوگ لیت ولعل سے کام لے رہے ہیں حالیہ اضافہ یقینا قابل مذمت ہے جس پرحکومت وقت کونظرثانی کی ضرورت ہے لیکن بہرحال اس سے حج کی فرضیت ساقط نہیں ہوسکتی ۔حج کے معاملہ میں ہمارے ہاں کچھ من گھڑت باتیں مشہورہیں جن کادین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔عوام میں ایک سوچ رواج پکڑگئی ہے کہ بچوںکی شادی سے قبل حج فرض نہیں ہوتا اکثرلوگوں کویہ کہتے سناہے کہ ہم پہلے اپنے بچوںکا فرض اداکرلیںان کے لئے رہائش کابندوبست کرلیںپھرحج بارے سوچیں گے ۔والدین کے ذمہ اولاد کی شادی کی ذمہ داری بیشک ہے لیکن اس بات کوسمجھنے کی ضرورت ہے کہ حج مستقل فرض ہے جبکہ اولاد کی تربیت

اورانکی ضروریات کی رعایت رکھنا الگ سے فرض ہے جن سے وہ کسی صورت سبک دوش نہیں ہوسکتے لیکن حج صاحب استطاعت پرفرض ہے ایک آدمی جس کے پاس اتنی مالیت ہوکہ وہ بآسانی حج کرسکتا ہوتواس کوچاہیے کہ وہ حج ضرورکرے شادی بیاہ پرفضول قسم کی رسمیں اوراس کے نتیجہ میں فضول خرچیاں کرنااورایک خطیررقم ان رسموںکو پوراکرنے کے لئے وقف کرنااوراس کے نتیجہ میں حج کومئوخرکرناکسی اعتبارسے بھی درست نہیں ۔حج مستقل فرض ہے اوراسلام کا پانچواں بڑارکن ہے ۔جس کے بارے میں خالق باری تعالی نے اپنی آخری کتاب قرآن مجیدمیں واضح طورپرحکم دیاہے کہ ’’ لوگوں پرفرض ہے کہ اللہ تعالی کیلئے خانہ کعبہ کاحج کریں جواس کی طاقت رکھتا ہو‘‘(اورجوباوجودقدر ت کے حج پرنہ جائے )تواللہ تعالی سارے جہاں سے بے نیاز ہے ،(آل عمران) ۔اسی طرح نبی آخرالزمان ﷺکا ارشادمبارک ہے جس شخص کوکسی ضروری حاجت یاظالم بادشاہ یاشدید مرض نے حج سے نہیں روکا اوراس نے حج نہیں کیاتووہ چاہے یہودی ہوکرمرے یانصرانی ہوکرمرے ۔اسی طرح ایک موقع پرارشادفرمایا جوتم میں سے حج کا ارادہ کرے اسے چاہئے کہ وہ جلدی کرے ۔جوفریضہ وقت پراداہوجائے تواس میں انسان کے لئے خیروبھلائی ہوتی ہے تاخیراکثراوقات بہت زیادہ پریشانیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے ۔حرمین شریفین کاایک ایک ذرہ برکتوں اوررحمتون کاخزینہ ہے اس مبارک سرزمین پرجانے والادنیاکاسب سے زیادہ خوش نصیب انسان ہوتا ہے ۔اس لئے کہ وہ اللہ تعالی کے سب سے محبوب شہرمدینہ منورہ اوراس کے پیارے حبیب ﷺکے محبوب شہرمکہ مکرمہ کی زیارت سے مشرف ہوتا ہے ۔حج میں بے شمارسہولیات کے باوجودآج بھی مشقت موجودہے لہذاایک جوان اورصحتمندآدمی جس طرح بھرپورطریقہ سے

حج کے مناسک اداکرسکتاہے کوئی بوڑھا شخص نہیں کرسکتاحرمین شریفین سے دلی محبت اوروابستگی ہرمسلمان کو جنون کی حدتک ہوتی ہے اس کی وجہ وہاں پراللہ تعالی اوراس کے پیارے نبی حضرت محمدﷺکامبارک گھرہے۔ایک اورانتہائی اہم بات یہ ہے کہ عام طورپردیکھاگیاہے کہ ادھیڑعمریابڑھاپے میں لوگ حج بیت اللہ کے لئے جاتے ہیںان میں سے اکثرمناسک حج کے اداکرنے کی سکت نہیں رکھتے وہ جسمانی طورپربھی لاغرہوتے ہیں اورذہنی طورپربھی ان کا حافظہ کمزورہوتا ہے ۔حج کی ادائیگی سے کچھ عرصہ بعد ان میں سے بہت سارے جلداپنے خالق حقیقی سے جاملتے ہیں ۔وہ اپنی زندگی کے چندمہینے یاسال حرمین کی یادمیں بسرکرتے ہیں ۔جوانی میں حج وعمرہ کرنے کا یہ فائدہ ہوتاہے کہ ایک لمباعرصہ آپ حرمین کی یادوںسے اپنے دل ودماغ کوخوش رکھ سکتے ہیں اس کی روحانی لذت زندگی کے

کسی موڑپرآپ کاساتھ نہیں چھوڑے گی اورحج کی ادائیگی کے بعدآپ ایک نئی زندگی بسرکریں گے آپ دعاکے لئے بارگاہ ایزدی میں ہاتھ اٹھائیں گے توکعبۃ اللہ آپ کی نگاہوں کے سامنے ہوگاجس سے مناجات باری تعالی کی حقیقت نصیب ہوگی ۔آپ کے لب پرجونہی اپنے آقاومولی شاہ دوجہان ﷺکا مبارک نام آئے گاتوآپ بیٹھے تویہاں ہوں گے لیکن آپ سبزگنبدکے سائے میں پہنچ جائیں گے حرمین شریفین کانام سننے سے آپ کو مکہ مکرمہ اورمدینہ طیبہ کی مکمل حقیقت نصیب ہوگی ۔آپ کواس نام لینے سے جومٹھاس نصیب ہوگی آپ اس کا اندازہ نہیں لگاسکیں گے حرمین کی جدائی میں آپ کی آنکھیں اشکبارہوجائیںگی اوربے اختیارآپ کی زبان کہے گی ۔۔الہی دکھا دے توپھرسے مدینہ۔۔تیری رحمتوں کا ہے جو خزینہ ۔۔۔جوپہنچاوہاں پھرہوا وہ بیگانہ۔۔کہ ہستی ہے ان کی سب سے یگانہ ۔۔۔پہنچے گاوہاں تک فقط وہ سفینہ ۔۔ناخداہوںگے

جس کے شاہ مدینہ۔جوانی اورصحت میں حج وعمرہ سے ایک طرف توآپ کوبیحدشادمانی ہوگی ۔دوسری طرف بروقت ادائیگی فریضہ سے دل کواطمینان ہوگا ۔اللہ تعالی کا وعدہ ہے کہ حج وعمرہ کرنے والوںکومیں پہلے سے زیادہ دوں گااوروہ مجھ پرقرض ہے حاجی اللہ تعالی کامہمان ہوتا ہے اوراللہ تعالی بہترین کارسازاورمیزبان ہے ۔لہذاحج وعمرہ جلدازجلد کریں صحت کوغنیمت جانتے ہوئے سب سے پہلے اس فریضہ کی ادائیگی کریں جوانی اورصحت میں حج وعمرہ کی ادائیگی سے آپ کوجو نورانیت وروحانیت نصیب ہوگا ہفت اقلیم اسکے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔اللہ تعالی ہرمسلمان کو حرمین شریفین کی مقبول حاضری سے نوازے ۔آمین