مسافرمدینہ کی ریاست مدینہ کے والی سے استدعا ۔۔۔ تحریر: محمد صہیب فاروق

حج ارکان اسلام میں سے ایک اہم رکن ہ جوکہ اقوام عالم میں مسلمانوں کے باہمی اتحادویگانگت کا عملی ثبوت ہے جس میںپوری دنیاکے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے مسلمان ایک جیسالباس زیب تن کرکے اپنے خالق ومولی ٰکے سامنے بیک زبان ہوکر’’لبیک اللہّم لبیک‘‘ اے اللہ میں حاضرہوںکی صدائیں بلندکرتے ہیں ایک مسلمان کے لئے حج بیت اللہ سعادت عُظمیٰ ہے کہ جس کے لئے وہ ساری زندگی دیوانہ وارتڑپتااورمچلتاہے سرتاپامعصیت میں لتھڑاہوامسلمان بھی جب کعبۃ اللہ کودیکھتاہے توبے اختیاراس کی آنکھوں سے آنسوئوں کی جھڑی جاری ہوجاتی ہے اوروہ ٹکٹکی باندھ کراپنے رب تعالی کے مرکزتجلیات کوحسرت بھری نگاہوں سے دیکھتارہتاہے وہ اپنے آقاومولی شافع محشرﷺکے روضہ اقدس کی سنہری جالیوں اورسبزگنبدکی ایک جھلک دیکھ کردم بخود ہوجاتاہے وہ شاہ مدینہ ﷺکے مبارک شہرکی

بابرکت گلیوںکاتصورباندھے سینکڑوں میل دوربیٹھا درودوسلام پڑھتا رہتا ہے حرمین شریفین کے مبارک سفرپرروانہ ہونے والوںکوکائنات کاسب سے خوش بخت انسان تصورکرتا ہے وہ اسے ائیرپورٹ تک الوداع کہنے آتاہے ا س کے گلے میں ہارڈالتااوراس کی پیشانی کو بوسہ دیتے ہوئے اس سے اپنے کریم ورحیم مولی ٰکی بارگاہ رسالت ﷺ میںسلام پیش کرنے کی استدعاکرتا ہے وہ توحرمین کی یادمیں اشک بہاتارہتاہے اوردل میں یہ دُعاکرتاہے اے میرے مولٰی تومیرے جسم پراپنی قدرت سے اگرپرلگادے تومیں دن بھرتیرے کعبہ کے گرد چکرلگاتا رہوں اورشب کوتیرے محبوب کے شہرکامہمان بن جائوں جہاں میں سبزجالیوں پراپنے پروںکوملتے ملتے جان دے دوں ۔ اورمدینۃ الرسول ﷺکی پاکیزہ ومطہرمٹی میراجائے مدفن بن جائے ۔یقیناحرمین شریفین کی محبت وعقیدت کوماپنے کا کوئی پروانہ نہیں ۔دین اسلام کے نزول کی سرزمین کے جس کے چپّے چپّے پررب العالمین کی رحمتوں کی ہرلمحہ بارش ہوتی ہے اورجہاں رحمۃ للعالمین ﷺکے مبارک قدم رنجہ ہوئے جن پہاڑوں،بیابانوں اوردرختو ںپرکریم آقاﷺکی نظررحمت کی تجلی پڑی ہوبھلاکائنات کا کوئی خطہ اس کی برابری کادعوی کرسکتا ہے ہرگزنہیں۔بنوہاشم اورقریش کی اولیت وفضیلت کی جہاں ہزارہاوجوہات ہیں وہیں ایک بڑی وجہ خدمت حجاج تھی اس لئے کہ حجاج رب تعالی کے مہمان ہوتے ہیں اوراللہ تعالی کے مہمانوں کی مہمان نوازی کرنے والااسے ساری مخلوق میں سے عزیزترہے ۔قریش نے حجاج کی راحت رسانی کے لئے مختلف شعبے قائم کررکھے تھے جن کے ذمہ انتظامات حج ہواکرتے تھے ان میں سے ’رفادہ ‘ کے ذمہ زائرین کعبہ کوہرممکن سہولت وراحت پہنچانے کے لئے امدادباہمی کے جذبہ کے تحت چندہ کرکے ان کواشیائے خوردونوش پہنچاناتھا ابتداء بنی نوفل

اوربعدازاں بنی ہاشم اس فریضہ کوسرانجام دیتے ۔’’سُدانۃ‘‘حفاظت کعبہ پرمامورتھاررسول اللہ ﷺکے داداخواجہ عبدالمطلب اس کے نگران اعلی تھے ۔اسی طرح ’’سقایہ ‘‘پانی کے انتظامات سنبھالتی تھی مکہ مکرمہ میں چونکہ پانی کی خاصی قلت تھی اس لئے دوردرازسے چمڑے کے تھیلوں میں پانی بھرکرحُجاج کی ضرورت پوری کی جاتی تھی۔اللہ تعالی نے بنوہاشم وقریش کو خدمت حُجاج کی بدولت دنیاوآخرت کی عزتوں سے نوازا۔پاکستان انشاء اللہ ریاست مدینہ بننے جارہاہے کلمہ کے نام پرحاصل کردہ اس پاک سرزمین کے فرمان روائوں پریہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے درخشندہ ماضی کی اچھی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے حج بیت اللہ اورعمرہ زائرین کوہرممکنہ سہولت میسرکریں اوران کے لئے اس باسعادت ومبارک سفرمیں ان کے معاون بن کردارین میں سرخروئی کاپروانہ حاصل کریں دنیاکے مسلم ممالک کے علاوہ غیرمسلم ممالک بھی زائرین حرمین شریفین کے لئے سہولیات فراہم کرنے کواپنی سعادت سمجھتے ہیں توبطومسلمان ریاست کے فرمانرواہونے کے یہ ان کا اخلاقی فرض ہے کہ اقتدار اعلٰی کے مالک رب العالمین کی بارگاہ میں حاضری کے لئے بندگان خداکے راستہ میں حائل ہررکاوٹ کودورکریں ۔