ایک مثالی خوددار اور بااصول شخص کی یاد میں ۔۔۔ تحریر: ندیم رزاق کھوہارا

اس دنیا میں روزانہ کروڑوں انسان پیدا ہوتے اور کروڑوں ہی اپنی مدت پوری کر کے ہمیشہ کے لیے تہہ خاک ہو جاتے ہیں۔ لیکن ان میں بہت کم ایسے ہوتے ہیں جو اپنا نام یا مقام بنا پاتے ہیں کہ انہیں دنیا سے جانے کے بعد بھی یاد رکھا جائے۔ ایسی شخصیات ہوتی تو معدودے چند ہیں لیکن ایک چیز جو ان میں قدر مشترک ہوتی ہے وہ ہے اصول پسندی اور خودداری۔۔۔میں نے کوئی بھی ایسی قابل ذکر شخصیت نہیں دیکھی جو بے اصول ہو۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے آپ ہر اہم ترین شخصیت کی سب سے بڑی خوبی اس کا بااصول ہونا پائیں گے۔ دراصل انا، خودداری اور اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے والے افراد ہی زندگی سے صحیح معنوں میں لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ گویا یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ۔۔۔”وہ زندگی۔۔۔ زندگی ہی نہیں جسے اصول سے نا جیا جائے”بلکہ آپ نے یہ محاورہ بھی اکثر سنا ہو گا کہ چوروں کے بھی کوئی اصول

ہوتے ہیں۔ الغرض بحیثیت ایک مہذب انسان باصول زندگی گزارنا ہم سب کا شیوہ ہونا چاہیے۔اس مضمون میں آپ کو ایسی ہی ایک شخصیت کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں جس نے اپنی پوری زندگی اصولوں کے تابع ہو کر اس طرح گزاری کہ اپنے حلقہ ارباب میں مثال بن گئے۔ وہ ہیں راقم الحروف کے والد محترم عبدالرزاق کھوہارا شہید۔۔۔ جن کی اصول پسندی اور خودداری کا ایک زمانہ معترف تھا اور آج بھی ان کے گن گاتا ہے۔عبدالرزاق کھوہارا شہید اکثر فرمایا کرتے تھے کہ جو انسان اپنے آپ کی عزت نہیں کرتا زمانہ بھی اس کی عزت نہیں کرتا۔ اس لیے دوسروں کی نظر میں باعزت ہونے کے لیے پہلے اپنے آپ کی نظر میں خود کو مقدم کرو۔ اسے عرف عام میں “سیلف ریسپیکٹ” کہتے ہیں۔ والد محترم اپنی اوائل زندگی سے ہی ایک خوددار شخصیت کا جیتا جاگتا نمونہ تھے۔ اس کی مثال یوں بھی دی جا سکتی ہے کہ ایک دفعہ جب ان کی عمر لگ بھگ پندرہ سال تھی تو انہوں نے حقہ پینا شروع کر دیا۔ ہمارے ہاں دیہات میں حقہ پینا ایک عام روایت سمجھی جاتی ہے لیکن ایک پندرہ سالہ لڑکے کو حقے کی لت پڑنا ذرا میعوب تھا۔ دادا جان کو علم ہوا تو وہ بہت ناراض ہوئے۔ انہوں نے والد صاحب کو بلا کر اس معاملے پر بازپرس کی تو والد صاحب فرمانے لگے۔۔۔”کیا کروں ابا جان۔۔۔ میں جب کسی محفل میں یا پنجایت وغیرہ میں چارپائی پر بیٹھا ہوتا ہوں تو اوپر سے کوئی نا کوئی آ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ تم ذرا پائنتی کی طرف ہو جاؤ۔ تم کون سا حقہ پیتے ہو۔ اسی طرح کرتے کرتے میں چارپائی کے عین پائنتی پر پہنچ جاتا ہوں۔ حتی کہ بیٹھنے کی جگہ بھی نہیں بچتی۔ اور بھری محفل میں مجھے سب سے آخری مقام پر بیٹھنا پسند نہیں۔ اس لیے حقہ پینا شروع کیا ہے تا کہ آئندہ مجھے کوئی یہ نا کہ سکے کہ ذرا پرے ہو جاؤ تم کون سا حقہ پیتے ہو”ذرا اندازہ کیجیے۔۔۔

ایک پندرہ سالہ لڑکے کی خودداری کا یہ عالم تھا۔ انہیں پنجایت اور بڑی محفلوں میں بیٹھنا پسند تھا لیکن نظرانداز کیا جانا ہرگز پسند نا تھا۔ اور شاید یہی وجہ تھی کہ آہستہ آہستہ مرکز نگاہ بنتے گئے اور پھر ایسا وقت بھی آیا جب گاؤں اور گردونواح میں لوگ ہر فیصلے کے لیے ان کے پاس آتے۔ایسی ہی ایک اور مثال والد صاحب کے اوائل عمری سے بیان کرتا چلوں۔۔۔۔عبدالرزاق کھوہارا میٹرک کرنے کے بعد فارغ التحصیل تھے۔ ایک بار اپنے دوست کو بھرتی مرکز تک چھوڑنے فیصل آباد تک گئے۔ واپسی پر ان کے پاس کوئی زاد راہ نہیں تھا۔ ڈرتے جھجھکتے ساہیوال جانے والی بس پر سوار ہوئے۔ کنڈیکٹر نے کرایہ طلب کیا تو صاف صاف بتا دیا کہ جیب کٹنے کی وجہ سے پیسے نہیں ہیں۔ پھر ملے تو دے دوں گا۔ کنڈیکٹر نے طنزاً کہا کہ ہاتھ پہ مہنگی گھڑی پہنی ہوئی ہے اور دینے کو کرایہ نہیں۔والد صاحب نے غصے میں آ کر گھڑی

اتاری اور کنڈیکٹر کو دیتے ہوئے کہا۔ یہ تم کرایے کی مد میں رکھ لو اور باقی کچھ پیسے مجھے دو تا کہ گھر پہنچنے تک کا باقی کرایہ ادا کر سکوں اور مجھے تم جیسے کسی اور کی بات نا سننی پڑے۔یاد رہے یہ وہ وقت تھا جب ہاتھ پہ گھڑی باندھنا بہت ہی پسندیدہ عمل سمجھا جاتا تھا۔ اور عام سی چین والی گھڑی کی قیمت بھی بہت زیادہ ہوتی تھی۔ لیکن والد صاحب نے وہ قیمتی گھڑی ایک کنڈیکٹر کو کرایے کی مد میں بیچ دی لیکن بات سننا گوارا نا کیا۔ یہ ابتدائے عمر سے ہی ان کی خودداری کی اعلی مثال تھی۔بات یہیں تک محدود نہیں رہتی۔۔۔ اوائل عمری سے ہی طبیعت میں پیدا ہونے والی خودداری اور انا۔۔۔ پیشہ ورانہ زندگی میں بھی قائم رہی۔ دوران ملازمت بھی ان کی کوشش ہوتی تھی کہ کسی افسر کی کڑوی کسیلی بات نا سہنا پڑے۔ عزت سے زندگی گزاری جائے۔ اس کے لیے وہ دن رات محنت کرتے اور جب حق پر بات آتی تو

ڈٹ جاتے۔ایک دفعہ ان کے ایک افسر نے ڈیوٹی کے دوران ریلوے اسٹیشن پر انہیں اپنا بکسہ ساتھ اٹھا کر چلنے کو کہا۔ وہ افسر کافی بڑے عہدے پر فائز تھا اور ماتحتین اکثر اس کی آؤ بھگت کرتے رہتے تھے تا کہ اپنے فوائد پا سکیں۔ لیکن والد صاحب کی غیرت نے یہ گوارا نا کیا کہ وہ بھرے ہجوم میں چپڑاسیوں کی طرح بکسہ اٹھا کر چلیں جبکہ ان کی حیثیت اس سے بڑھ کر تھی۔ لیکن انکار بھی خلاف ضابطہ سمجھا جاتا۔ انہوں نے افسر کو انکار کرنے کی بجائے قریب کھڑے ایک قلی کو بلایا اور بکسہ اٹھا کر چلنے کو کہا۔ بکسہ مطلوبہ جگہ پر پہنچا کر واپس آئے تو افسر وہیں پر کھڑا تھا۔ وہ گرمجوشی سے والد صاحب سے بغل گیر ہو کر کہنے لگا۔۔۔ “تمہارے بارے میں جو سنا تھا بالکل ویسا پایا۔ میں دیکھنا چاہتا تھا کہ لوگ یہ سچ کہتے ہیں کہ عبدالرزاق کھوہارا ایک خوددار انسان ہے بلاوجہ خوشامد نہیں کرتا”درجہ بالا مثال کا یہ

طلب ہرگز نہیں کہ عبدالرزاق کھوہارا خدانخواستہ ایک مغرور انسان تھے۔ بلکہ ان میں عاجزی و انکساری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ نرم لہجہ، شفقت، احساس، نرم مزاجی اور رحم دلی ان کی شخصیت کا خاصہ تھے۔ تاہم اپنے اصولوں کے معاملہ میں وہ انتہائی سخت تھے۔ انہوں نے جو اصول اپنے لیے طے کیے تھے ان پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ہمیشہ صاف ستھرے دھلے ہوئے خصوصاً سفید کپڑے پہنتے۔ سفید پوشی کا بھرم رکھتے۔ دروازے پر آئے سائل کو کبھی واپس نا موڑتے۔ اکثر ایسا ہوتا کہ پڑوسیوں کا کوئی بچہ کھانا لینے آتا۔ کھانا کم یا نا ہونے کے باعث وہ اپنے سامنے پڑا کھانا اٹھا کر اسے دے دیتے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی تمہارے پاس چل کر کسی کام سے بھی آتا ہے تو اسے واپس مت موڑو۔ حتی الامکان اس کی مدد کرو۔ کیونکہ یہ اللہ کی تم پر خاص نعمت ہوتی ہے کہ تم کسی کے کام آؤ۔والد صاحب اکثر فرمایا کرتے کہ

اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے نا صرف ہمیں اشرف المخلوقات اور مہذب انسان کے طور پر بلکہ ایک مسلمان گھرانے میں بھی پیدا کیا۔ یہ نہایت ضروری ہے کہ اللہ کی خوشنودی کی خاطر اپنی زندگی اسلامی اصولوں کے تابع ہو کر گزاری جائے۔ نیز اسی بناء پر احساس کمتری کو ختم کر کے احساس برتری کے ساتھ جیا جائے۔ کہ ہم اللہ کی اشرف مخلوق ہیں۔۔۔اس سلسلے میں وہ اکثر ایک فارسی شعر بھی سنایا کرتے۔ جو کچھ یوں تھا۔۔۔ ہر ملک، ملک ما است۔۔۔ کہ ملک خدائے ما است۔۔ترجمہ: ہر ملک میرا ملک ہے۔ کیونکہ یہ میرے خدا کا ملک ہے۔عبدالرزاق کھوہارا شہید کی خودداری اور اصول پسندی کی عملی طور پر اتنی مثالیں ہیں کہ انہیں ایک تحریر میں رقم کرنا ممکن نہیں۔ المختصر یہ دعا ہے کہ اللہ پاک ان کے درجات بلند فرمائے انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے اور ہمیں بھی ان کی طرح ایک با اصول اور خوددار انسان کے طور پر جینے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین